اہم خٻراں

بدھ، 13 جنوری، 2021

آئیں پنجاب اور پنجابی قوم سے آپکا تعارف کروائیں




موجودہ دور میں موجود دنیا کی سب سے قدیم مذہبی کتاب رِگ وید کو مانا جاتا ہے، رِگ وید ہندو مذہب میں بہت ہمیت رکھتی ہے۔ یہ قدیم کتاب پنجاب میں لکھی گئی، رِگ وید میں خدا اور خدا کے ایک ہونے کا تصور موجود ہے۔ رِگ وید میں خدا کے بہت سارے اوصاف بیان کیے گیۓ ہیں، جیسا کہ "برہما" برہما کا عربی میں مطلب ہے "خالق"، رِگ وید میں ایک اور جگہ خدا کیلیۓ "وشنو" لفظ استعمال کیا گیا ہے، "وشنو" کا عربی میں مطلب ہے "رب"۔


قدیم کتاب رِگ وید میں پنجابیوں کو ❞پنچ جݨا❝، ❞پنچ کرشتی❝، ❞پنچ آل❝ لکھا گیا ہے، رگ وید کے مطابق موجودہ پنجاب سات دریاؤں کی نسبت سے ❞سپت سندھو❝ یعنی سات پانیوں کا دیس اور ❞پنج ند❝ یعنی پانچ دریاؤں کا دیس بھی کہلواتا تھا، قدیم کتاب یجُر وید میں ایک بزرگ ہستی "منو" کا ذکر ملتا ہے، جنہوں نے طوفان نوحؑ (ع۔ س) کے بعد مشرقی پنجاب کے علاقے منالی میں سے آریہ نسل کی تہذیب کا آغاز کیا، منو کے تین بیٹے کرما ، شرما، اور چاپتی تھے۔ منو نے ہی منوسمرتی کا قانون بنایا جو کہ سناتھن دھرم یا ہندو دھرم کا اوّلین سماجی و مذہبی قانون تھا۔


سکندر کے سرکاری تاریخ دانوں نے پنجاب کو یونانی زبان میں ❞پینٹو پوٹامیہ❝ لکھا ہے اور بقول سکندر کے تاریخ دانوں کے پنجاب میں اُس وقت سینتیس چھوٹے بڑے شہر اور قصبے موجود تھے۔


رِگ ویدا اور یجر ویدا کے مطابق گنگا اور جمنا کے مغربی کناروں پر تہذیب کا آغاز کرنے والے ❞کورو❝ اور ❞پنچالا❝ تہذیب بھی پنجاب کے لوگوں نے آباد کی۔ رامائن کے ہیرو شری رام کی ماں اور شری رام کے والد راجہ جسرتھ کی دوسری بیوی اور بھرت کی ماں ککئی دونوں پنجاب کے شاہی گھرانوں سے تھیں۔ نیز شری رام کے دو بیٹوں لُو اور کُش کے نام پر ہی موجودہ شہر لاہور اور قصور آباد ہے۔


کشمیر کے 'سرسوت برہمن' مشرقی پنجاب میں بہنے والے دریائے سرسوتی کے خشک ہونے پر ہریانہ سے ہجرت کرکے پنجاب کے شمالی علاقے کشمیر میں آباد ہوئے۔ 


پنجاب میں قدیم دور میں موجود تکشیلا (ٹیکسلا) یونیورسٹی میں چاروں وید اور بتیس فنون پڑھائے جاتے تھے۔ چانکیہ یا چناکیہ وہ پنجابی سپُتر تھا جس نے ارتھ شستر جیسی ملٹری، سیاسی، خارجہ و داخلہ پالیسی و انٹیلیجئینس ٹیکٹس بیسڈ کتاب لکھی۔ یہ  چندرگُپ موریا کا اُستاد بھی تھا۔ چندرگُپ موریا نے جب ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو چانکیہ نے اسے حملہ کرنے سے روکا، اور کہا کہ ہمیں اپنے علاقے سے باہر حملہ نہی کرنا چاہیے۔


پنجاب میں بنیادی طور پر چار طبقات تھے جنہیں قدیم دور میں منو نے بنایا تھا: جن کے نام یوں تھے: ۱۔ برہمن، ۲۔ کھچھتّریہ، ۳۔ ویش، ۴۔ شودر


یہ ایک ہی آریہ نسل سے چار انتظامی طبقات بنائے گئے تھے۔ جن میں برہمن کے ذمّے مذہب اور علم تھا، کھچھتّریہ کے ذمے طاقت و حکومت تھی، ویش کے ذمّے کاروبارِ معیشت تھا اور شُودر کے ذمّے آرٹ تھا۔ لیکن پھر وقت کے چلتے رہتے ان میں یہ تقسیمیں قدرے گہری ہوتی گئی، اور باہری حملہ آوروں کے آنے کے بعد ان کی افادیت مزید کم ہوتی گئی، یاد رکھیں دلّت اور شودر میں یہ فرق ہے کہ دلّت ہندو دھرم سے آؤٹ ہوئی ہوئی کلاس کو کہا جاتا ہے یا اُس کلاس کو جو اس سناتھن دھرم کو مانتی نہیں یا کہہ لیں دلّت ہندو دھرم کے کافروں کو کہا جاتا تھا۔


پنجاب اور پنجابی قوم، دُنِیا کو تہذِیب سِکھانے والی سب سے پہلی دھرتی اور قوم ہے۔ پنجابی قوم نے ہڑپہ تہذیب کی بنیاد رکھی اور اس کو اپنے عروج تک پہنچایا۔ ہڑپہ تہذِیب میں عِلم، ثقافت اور فَن، آپنے وقت میں دُنِیا میں سب سے بہترین تھے۔ دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی پنجاب کے شہر ٹیکسلا میں قائم ہوئی، جہاں جدید علوم پڑھاۓ جاتے تھے۔ اس تکشیلا (ٹیکسلا) یونیورسٹی میں دنیا کے نام ور لوگ زیر تعلیم رہے۔


رب کے فضل سے، پنجابی قوم کے لوگوں نے حضورۖ کے اعلان نبوت کے ساتھ ہی اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ جلد ہی پنجاب مسلم اکثریتی خطہ بن گیا۔ 1941ء کی مردم شماری کے مطابق متحدہ پنجاب میں مسلمان پنجابی 53%، ہندو پنجابی 29% اور سکھ پنجابی 15% تھے. اس وقت پنجابی زبان پوری اسلامی دنیا میں مسلمانوں کی تیسری بڑی زبان ہے.


پنجابی قوم کے خونی لحاظ سے سب سے زیادہ قریب کشمیری، جمووال، ہریانوی، گنگا کے مغربی کنارے پر آباد لوگ، راجستھانی، ہزارہ ڈویژن کے پنجابی کا ہندکو لہجہ بولنے والے، شمالی سندھ کے سماٹ سندھی اور بلوچستان کے جاموٹ ہیں۔


تُرک مملوک محمود غزنوی کے پنجاب پر حملے سے پہلے تک زابل اور کپیسا یعنی کابل و قندھار تک کا علاقہ پنجاب کے راجہ جے پال کی سلطنت میں شمار ہوتا تھا۔ مہابھارت میں جس گندھاری کا ذکر ہے وہ موجودہ قندھار کے ہندو راجہ کی بیٹی تھی۔ 


پنجاب جو کہ پانچ دریاؤں میں بٹا ہوا تھا اور قدیم دور میں ان پانچوں دوآبوں میں پنجابیوں کی تہذیب الگ الگ طرح سے ارتقاء کا شکار ہوئی۔ اس طرح پنجابی زبان کے بتیس لہجے بن گئے۔


مشرق میں پوادھی سے شروع ہوکر جموں کی ڈوگری، کشمیر کی پہاڑی، ماجھے کی ماجھی، لدھیانے کی مالوائی، جالندر ہوشیارپور کپورتھلہ کی دوآبی، جھنگ کی جٹکی، سرگودھا کی شاہپوری، پشاور کی پشوری، پوٹھوہار کی پوٹھوہاری، ہزارہ ڈویژن کی ہندکو، ڈیرہ غازی خان کی ڈیروی، ملتان کی ملتانی، بہاولپور کی بہاولپوری سمیت پنجابی کے کُل بتیس لہجے ہیں۔


انیس سو ایک، تک موجودہ صوبہ "کے پی کے" پنجاب کا علاقہ تھا، جسے اُس وقت کے وائسرائے لارڈ کروژن نے پنجاب کے ایک ضمنی انتظامی صوبے کا درجہ دے کر صوبہ سرحد کی شکل میں پروان چڑھایا۔


پنجاب اٹھارہ سو انچاس میں انگریزوں کے قبضے میں گیا۔ یہ وہ آخری ریاست تھی جس پر انگریز نے برصغیر میں قبضہ کیا۔ باقی ہند بشمول بلوچستان و ممبئی پر اس سے بہت پہلے قبضہ ہوچُکا تھا۔ پنجاب پر قبضہ کرنے کیلۓ انگریزوں کو دھرتی کے غداروں کو ساتھ ملا کر پنجابی قوم سے بارہ جنگیں لڑنا پڑیں، جن میں اٹھارہ سو انچاس میں چیلیانوالہ (منڈی بہاؤالدین) کے مقام پر لڑی جانی والی جنگ کو انگریزوں کی تاریخ میں لڑی جانے والی سب سے خوفناک اور خونی جنگوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ طعنہ بالکل بے سرو پاء ہے کہ پنجاب نے اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں کیا کیا؟ کیونکہ پنجاب پر اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی سے صرف نو سال قبل قبضہ ہوا تھا، جبکہ باقی ہند کے اکثر علاقوں کو پچاس سے سو یا ڈیڑھ سو سال انگریز یا پرتگالیوں یا فرانسیوں کے قبضے میں گئے ہوئے ہوچکے تھے، پنجاب کے اُس وقت کے راجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر اور پشاور بھی غیر ملکی حملہ آوروں سے چھین لیا تھا۔ درحقیقت رنجیت سنگھ کا پنجاب وہی پنجاب تھا جس پر کبھی جے پال کی حکومت غزنوی کے حملے سے قبل ہوا کرتی تھی اور بعد میں راجہ جسرت کھوکھر کی۔ رنجیت نے اپنے تین بیٹوں کے نام کشمیرا سنگھ، ملتانہ سنگھ، اور پشورا سنگھ رکھے تھے، پشاور بنوں کوہاٹ مردان ڈیرہ اسماعیل خان اور ہری پور و ایبٹ آباد اُس وقت تک بھی خاصی پنجابی آبادی کے حامل شہر تھے.

اس سب کے باوجود پنجابی قوم کے جانثاروں نے اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں انگریزوں اور ان کے پالتو دھرتی کے غداروں سے اپنے دیس کی آزادی کیلۓ جنگ کی اور بہت سے اپنی جان قربان کر گۓ اور بہت سے قید ہوۓ۔ مزاحمت اور قربانیوں کا یہ سلسلہ انگریزوں کے جانے تک جاری رہا۔ اور پھر انیس سو سنتالیس میں پنجابی قوم نیں پاکستان کیلیۓ پنجاب کی تاریخی زمین کا چھتالیس فیصد رقبہ قربان کیا جو انڈیا میں رہ گیا، پنجابی قوم کے بیس لاکھ لوگوں نے اپنی جان دے کر اور دو کروڑ نے اپنے بناۓ گھر بار، کاروبار چھوڑ کر ہجرت کرکے پاکستان کی بنیاد رکھی۔

یہ تھا پنجاب اور پنجابی قوم کا مختصر تعارف


جیوے پنجابی قوم،

جیوے پنجاب،

وسے پاکستان 🇵🇰

﹏﹏✎ عͣــلᷠــͣــᷢی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں